دارالعلوم کی کوئی خاص مستقل آمدنی نہیں ہے، نیز حکومت سے امداد وصول کرنا بانی دارالعلوم اور ہمارے اسلاف رحمہم اللہ کے مزاج اور ادارہ کے بنیادی اصول کے خلاف ہے۔ اساتذہ کرام و عملہ کے وظائف اور طلبہ کے قیام و طعام اور دیگر مصارف کا دارالعلوم کفیل ہے۔
موجودہ سال 1445 - 2024 ء میں تقریبا ڈیڑھ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں، جن کے ماہانہ اخراجات ساٹھ لاکھ ستانویں ہزار چار سو پچاس (60،97،450) روپے ہیں۔ دار العلوم کے تمام حسابات کا سرکاری طور پر سالانہ آڈٹ کرایا جاتا ہے۔
الحمدللہ! ادارہ کے جملہ مصارف اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم اور حضور خاتمُ النبیین ﷺ کے صدقے اہل خیر مسلمانوں کی طرف سے زکوٰۃ، صدقات،عطیات اور ہدایا کے ذریعہ پورے فرمارہے ہیں۔ ادارہ یہ سمجھتا ہے کہ عام مسلمانوں کی طرف سے اخلاص سے دیئے گئے یہ عطیات خواہ تھوڑی مقدار میں ہوں، ان میں بڑی خیر و برکت ہوتی ہے۔