انگریزی استعمار کے دور میں جب مسلمانانِ برصغیر کی متاعِ ایمان کی حفاظت کے لیے "دیوبند" کے قصبے میں چند درویشانِ خدامست نے ایک انار کے درخت تلے مدرسہ کی بنیاد رکھی تھی، تو اہل فکر و نظر نے اس کو دیکھ کر یوں تبصرہ کیا تھا:
“در مدرسہ، خانقاہ دیدم” (میں نے مدرسہ کی شکل میں ایک خانقاہ دیکھی ہے)
بانی جامعہ شفیق الامت سیدی حضرت اقدس مولانا محمد عزیز الرحمن ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ و مرشد قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی مہاجر مدنی نور اللہ مرقدہ کے چشمۂ علم و معرفت سے فیض یاب ہو کر، محبت الہیٰ اور عشقِ رسول ﷺ سے سرشار ہو کر، اخلاص و للہیت اور توکل کے ساتھ اس عظیم ادارے کی بنیاد رکھی اور زندگی بھر اس کو اپنے خونِ جگر سے سینچا۔
آپ رحمہ اللہ کی آہِ سحر گاہی اور شب و روز مساعی نے بہت جلد علومِ نبوت کے اس گلشن کو آسمانِ علم و فضل پر چمکتے دمکتے اکابرِ ملت کی نظروں میں محبوبیت، مرجعیت اور اعتماد کا وہ مقام دلا دیا کہ یہاں کے اجتماعات میں اساطینِ امت پر مشتمل وہ کہکشاں سجتی تھی، اور الحمدللہ سجتی ہے کہ مشرق و مغرب میں یہ اپنی مثال آپ ہے۔
الحمدللہ! خانقاہ دارالعلوم زکریا، اسلام آباد انہی نسبتوں کا امین ادارہ ہے، اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے علومِ قرآن و سنت کے ساتھ تربیتِ باطنی کی سوغات امت میں بانٹ رہا ہے۔ اللہ کریم اپنے حبیبِ کریم ﷺ کے صدقے قبولیتِ تامہ نصیب فرمائیں۔ آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ و اصحابہ اجمعین۔
دارالعلوم زکریا اسلام آباد خالص دینی، تعلیمی اور اصلاحی ادارہ ہے، جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے پُرفضاء مقام ڈی-15 بستی انوار مدینہ (سرائے خربوزہ) میں تقریباً 100 کنال کے وسیع رقبہ پر واقع ہے۔
سال 1420ھ مطابق 1999ء کو بانی دارالعلوم شفیق الامت حضرت جی مولانا محمد عزیز الرحمن ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ نے اللہ کریم کی ذاتِ پاک پر بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے اس ادارہ کی بنیاد رکھی، اور اسی وقت سے درجہ حفظ کی تعلیم کا آغاز ہوا۔
سال 1972ء سے مدرسہ انوارِ صحابہؓ، جامع مسجد صدیقِ اکبر الہ آباد، راولپنڈی کینٹ سے جس تعلیمی و اصلاحی سفر کا آغاز ہوا، اب بستی انوارِ مدینہ، انڈسٹریل ایریا، ڈی-15 ترنول منتقل ہے۔ جہاں سال 1428ھ مطابق 2007ء سے دورۂ حدیث شریف کا آغاز ہوا اور اب تعلیمِ دین کے تمام ہی شعبے قائم ہیں۔
▪️ حفاظ: 2,258 ▪️ علماء: 507 ▪️ قراء: 238 ▪️ متخصصین: 142
ابتداء میں یہ شہر کی گہما گہمی سے دور ایک بیابان علاقہ تھا، روشن دن میں یہاں آتے ہوئے خوف سا محسوس ہوتا تھا۔ پتھریلی زمین، جھاڑیاں، کانٹے اور راستے دشوار گزار تھے۔ کوئی چھت نہیں تھی، کھلے آسمان تلے بیٹھنا ہوتا تھا۔ ایک دن توکل علی اللہ کرتے ہوئے حضرت جی ہزارویؒ نے اپنے ضعیف العمر والدین، اہل خانہ، قریبی احباب اور متعلقین کے تعاون سے ایک چھوٹا سا عارضی کمرہ تعمیر کروایا۔ یہ کمرہ مسجد، مدرسہ، خانقاہ، درسگاہ، دارالاقامہ اور مطعم بن گیا۔
آغاز میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں آپؒ نے نہایت صبر وتحمل سے برداشت کیا جو علماء حق کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے۔
الحمدللہ! آج اس مرکز میں ہر طرف بہار ہی بہار ہے۔ عظیم الشان جامع مسجد "انوارِ ختمِ نبوتﷺ" کے علاوہ دارالتعلیم، دارالقرآن، دارالاقامہ اور سالکین کے لیے شاندار عمارتیں موجود ہیں۔
یہ ادارہ حکومتِ پاکستان کے قانونی ضوابط کے مطابق RS/ICT/521 رجسٹرڈ ہے۔
وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ الحاق نمبر 06423 ہے